بنگلورو:20/مارچ(ایس او نیوز ) کانگریس اعلیٰ کمان کو عطیہ دئے جانے کے متعلق ڈائری کے مسئلے پر ریاستی اسمبلی میں بحث کی اجازت پربضد بی جے پی نے اپنی کوشش بسیار کے بعد آج اپنا احتجاجی دھرنا واپس لے لیا اور اس کے ساتھ ہی ایوان کی کارروائیاں باضابطہ شروع ہوگئیں۔ آج جیسے ہی کارروائی کا آغاز ہوا، اپوزیشن لیڈر جگدیش شٹر کی قیادت میں بی جے پی اراکین نے ایک بار پھر اپنا دھرنا جاری رکھا اور بضد تھے کہ ڈائری کے مسئلے پر بحث ہونی ہی چاہئے، اور حکومت کو اس کا جواب دینا ہوگا۔ عوا م میں اس ڈائری کی وجہ سے جو انتشار پیدا ہوا ہے، اس فضا کو صاف کرنا ضروری ہے۔ اس مرحلے میں جگدیش شٹر نے کہاکہ بی جے پی نہیں چاہتی کہ اس مسئلہ پر ایوان کا وقت یونہی ضائع ہوتا رہے، حکومت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایوان کی دیگر کارروائیاں متاثر ہورہی ہیں۔اسی لئے بی جے پی نے اپنا دھرنا واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست کو درپیش خشک سالی کی سنگین صورتحال پر ایوان میں بحث ہونی ہے۔بی جے پی نے کبھی اس مسئلے پر بحث سے راہ فرار اختیار نہیں کی اور نہ ہی وہ چاہتی ہے کہ اس کی وجہ سے ایوان کی کارروائیوں میں کسی طرح کی رکاوٹ پیدا ہو۔ اسی مقصد کے تحت پارٹی نے اپنا دھرنا واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مرحلے میں اسپیکر کے بی کولیواڈ نے بھی بی جے پی سے گذارش کی کہ وہ اپنا دھرنا واپس لے اور سلگتے مسائل پر ایوان کو بحث کیلئے موقع فراہم کرے۔خشک سالی، بجٹ اور دیگر امور پر بحث ہونی ہے۔ اسی لئے ایک معمولی مسئلے کو لے کر دھرنے کو طول دینا درست نہیں ہے۔ شٹر نے کہاکہ خشک سالی کے علاوہ مغربی گھاٹ کے تحفظ کے متعلق ڈاکٹر کستوری رنگن رپورٹ پر بھی ایوان میں بحث ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ خشک سالی کی صورتحال پر ضابطہ 69 کے تحت بحث کی اجازت دینے کیلئے انہوں نے پہلے ہی نوٹس داخل کردی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ڈائری معاملہ کو حکومت نے اپنی انا کا مسئلہ بنالیاہے، اسی لئے بی جے پی اب اس معاملے کو ترک کررہی ہے۔شٹر کے اس بیان پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سدرامیا نے کہا کہ بی جے پی کے پاس ڈائری کے سلسلے میں کہنے کیلئے کچھ نہیں ہے، بلاوجہ وہ ایوان کا وقت ضائع کرنا چاہتی ہے، عوام کے سامنے بے نقاب ہوجانے کے خوف سے اس نے دھرنا واپس لیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی اراکین کو ایوان کی کارروائیوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، اسی لئے سستی شہرت کی خاطر احتجاج کی روش اپنائی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس اعلیٰ کمان کو رقم ادا کرنے کے متعلق گووند راجو کے گھر سے جو ڈائری برآمد ہوئی ہے وہ فرضی ہے، اگر واقعی اس ڈائری پر بحث ہونی چاہئے تو اس کے ساتھ ہی لہر سنگھ کی ڈائری اور وزیر اعظم مودی کے متعلق سہارا اور برلاگروپ کی ڈائریوں کو بھی جانچ کے دائرہ میں لایا جاناچاہئے۔انہوں نے کہاکہ محض اس مسئلے کو بنیاد بناکر بی جے پی نے جمعرات سے اب تک ایوان کا وقت ضائع کردیا ہے۔ فرضی ڈائری کو بنیاد بناکر بی جے پی نے اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے احتجاج کیا کہ سہارا اور برلا کی ڈائریوں کے متعلق سپریم کورٹ نے واضح طور پر فیصلہ سنایا ہے کہ ان ڈائریوں کو بطور ثبوت تسلیم نہیں کیاجاسکتا۔ سپریم کورٹ کا یہی فاصلہ اس ڈائری پر بھی لاگو ہوگا۔ اس مرحلے میں سدرامیا پر نکتہ چینی کرتے ہوئے شٹر نے کہاکہ وہ اس مسئلے پر حقائق پر پردہ پوشی کرنے کیلئے سپریم کورٹ کے فیصلے کا غلط طریقہ سے سہارا لے رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اس مرحلے میں بی جے پی پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہاکہ پانچ سال اقتدار پر رہ کر ریاست میں لاکھوں کروڑ روپیوں کی دن دھاڑے لوٹ مچانے والی بی جے پی کو کرپشن کے بارے میں بولتے ہوئے کم از کم شرم تو آنی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ جس وقت یڈیورپا کے جے پی میں تھے اس وقت یہی بی جے پی لیڈران تھے جنہوں نے یڈیورپاکو لٹیرا قرار دیاتھا، اب اگر بی جے پی کی مرکزی قیادت نے یڈیورپا کو ان پر مسلط کردیاہے تو ان کیلئے یڈیورپا بے داغ بن گئے۔ اس مرحلے میں حکمران اور اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان زور دار نوک جھونک ہوئی۔ تاہم اسپیکر کے بی کولیواڈ نے مداخلت کرتے ہوئے ایجنڈا کے مطابق کارروائی چلانے کی سخت ہدایت دی اس کے بعد کارروائی آگے بڑھی۔